اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ استاد شہید آیت اللہ مرتضی مطہری اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریہ کے بارے میں فرماتے ہیں: "احادیث شریفہ کے مطابق، امام زمانہ(عج) کے ظہور اور آپ کی آمد پر اہل حق کی طرف سے کچھ انقلابات اور تحریکیں ظہور پذیر ہونگی؛ یہ جو احادیث میں "یمانی کے قیام" کے بارے میں منقول ہے، یہ اسی سلسلے کا ایک انقلاب ہے؛ البتہ یہ انقلابات کسی پس منظر اور تمہید کے بغیر رونما نہیں ہونگے بلکہ احادیث میں ایک اسلامی حکومت کی بات ہورہی ہے جس کو اہل حق قائم کریں گے اور یہ حکومت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور تک قائم رہے گی"۔ (6)
نیز امام خمینی (قدس سرہ) کی قیادت میں اسلامی انقلاب کے بارے میں بشارتیں دی گئی ہیں۔ بطور مثال شیخ علی الکورانی فرماتے ہیں: "شیعہ اکابرین کے نزدیک اسلامی انقلاب ظہور کی تمہید ہے۔ وہ کم و بیش اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ یہ ظہور کی ایک علامت ہے۔ منقولہ احادیث میں عبارت "رَجُلٌ مِن قُم" پائی جاتی ہے جو قم سے اپنے انقلاب کا آغاز کرتا ہے اور "قَومٌ مِن الشَّرقِ" یعنی مشرق سے ایک قوم انقلاب کرتی ہے"۔ (7)
انگریزی شیعہ جس حدیث کا سہارا لے کر اسلامی نظام کی نفی کرتے ہیں اس میں "ظہور سے قبل کسی بھی اٹھنے والے پرچم کو باطل کا پرچم کہا گیا ہے اور عقل کہتی ہے کہ یہ حدیث کسی خاص پیش منظر اور پس منظر میں صادر ہوئی ہے ورنہ تو ہمیں ایسی کوئی حدیث بھی نہيں ملتی جس سے یہ ثابت ہو کہ غیبت کے زمانے میں شیعیان اہل بیت(ع) اپنے تمام سماجی اور سیاسی سرگرمیاں ترک کریں اور بس باطل کے اٹھے ہوئے پرچموں کے سائے میں ذلت کی زندگی بسر کریں۔
امام خمینی بھی اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں:
1۔ مراد وہ پرچم ہے جو امام زمانہ(ع) کے پرچم کے مد مقابل اٹھایا جائے، چنانچہ ان کی امامت اور ولایت کی طرف دعوت دینے والا پرچم مراد نہیں ہے۔ (8) اس روایت کی توجیہ اس روایت کی بنیاد پر ہے جس میں "رأیۃُ الضلالۃ" کی قید آئی ہے۔ امام محمد باقر علیہ السلام سے منقولہ حدیث میں آیا ہے: "وَمَنْ رَفَعَ رَايَةَ ضَلَالٍ [ضَلَالَةٍ] فَصَاحِبُهَا طَاغُوتٌ؛ جو شخص گمراہی اور ضلالت کا پرچم اٹھائے اس [پرچم] کا مالک طاغوت ہے"۔ (9)
مذکورہ روایت میں ان پرچموں کی مذمت ہوئی ہے جو اپنی طرف دعوت کے لئے لہرائے گئے ہیں، چنانچہ جو پرچم حق کی طرف دعوت کے لئے لہرائے جاتے ہیں، وہ اس مذمت کے زمرے میں نہیں آتے [اور ہر عقل سلیم اس بات کی تصدیق کرتی ہے]، بالفاظ دیگر، جو پرچم حضرت قائم(عج) کے مقابلے پر آئے، وہ طاغوت ہے، نہ وہ پرچم جو حق کے راستے پر اور حق کی سمت میں لہرایا جاتا ہے۔ اسی بنا پر روایت میں اسے طاغوت سے تعبیر کیا گیا ہے، جس کا مالک خدا کے مقابلے میں معبود واقع ہوا ہے؛ (یُعْبَدُ مِنْ دون الله عزّوجلّ)۔ (10) جبکہ ایسی کسی بات کا دعویٰ اسلامی انقلاب اور اسلامی نظام کے بارے میں حتی دشمن بھی نہیں کرسکے ہیں۔
2۔ وہ پرچم جو کوئی شخص مہدی ہونے کا دعویٰ کرکے اٹھائے۔ (11) جیسا کہ ہم جانتے ہیں امام زمانہ(ع) کی غیبت سے لے کر بےشمار لوگوں نے مہدویت کا دعویٰ کیا لیکن وقت نے ان سب کو رسوا کردیا اور کچھ لوگ آج بھی انگریزی شیعوں کے ہم آواز ہوکر دبے الفاظ میں مہدویت کا دعویٰ کررہے ہیں اور کچھ یمانی بنے ہوئے ہیں، اور یقینا انہیں بھی وقت ہی رسوا اور خوار کرے گا۔
امام خمینی (قدس سرہ) فرماتے ہیں: "یہ، جو کہتے ہیں کہ جو بھی پرچم بھی اٹھے اور جو بھی حکومت قائم ہوجائے، ان لوگوں نے گمان کیا ہے کہ جو بھی حکومت قائم ہوجائے، یہ ظہور کے خلاف ہے! یہ اتنی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے کہ کہہ کیا رہے ہیں ۔۔۔ حکومت کا نہ ہونا یعنی یہ کہ معاشرا درہم برہم ہوجائے اور ایک دوسرے سے جنگ و جدل میں الجھ پڑیں اور ایک دوسرے کو قتل کریں، فرض کریں کہ اگر حکومت کے مخالفین کے پاس [ایک کے بجائے] دو سو حدیثیں بھی ہوتیں، ہم انہیں دیوار پر دے مارتے کیونکہ یہ قرآن کے خلاف ہیں۔ (12)
3۔ عین ممکن ہے کہ یہ روایت ولی عصر(ع) کے ظہور کے واقعات کے بارے میں ہو اور ظہور کی علامات سے تعلق رکھتی ہو اور یہ بیان کرنا چاہتی ہو کہ عصر غیبت میں کچھ جھنڈے امام کے عنوان سے اٹھائے جائیں گے جو باطل ہیں۔ (13)
۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو اسد
۔۔۔۔۔۔۔۔
6۔ مطہری، قيام و انقلاب مہدی از دیدگاہ فلسفۂ تاریخ، ص67ـ68۔
7۔ مجلہ انتظار، سال اول، شمارہ 2، استاد علی الکورانی کے ساتھ انٹرویو، ص 62۔ رجوع کریں: بحار الانوار، ج52، ص243، و ج57، ص216، حدیث37۔
8۔ مجلہ انتظار، سال اول، شمارہ 2، استاد علی الکورانی کے ساتھ انٹرویو، ص 82۔
9۔ کلینی، الکافی، ج8، ص297۔
10۔ منتظری، دراسات فی ولایۃ الفقیہ وفقہ دولۃ الاسلامیہ، ج1، ص237۔
11۔ مجلہ انتظار، ص14؛ امام خمینی، صحيفۂ نور، ج20، ص196ـ197۔
12۔ مجلہ انتظار، سال اول، شمارہ 2، ص15؛ امام خمینی، صحيفۂ نور، ج20، ص198۔
13۔ مجلہ انتظار، سال اول، شمارہ 2، ص18۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲